بچوں کی معذوری، پاکستان اور بنيادی انسانی حقوق، ہم کہاں کھڑے ہيں ؟

,پاکستان سميت سارے ساوتھٔ ايشياميں إنسانی حقوق کو نظرانداز کيا جاتا ہے اور اس کےنتيجے ميں جوانفرادی, اجتماعی معاشرتی اور معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہيں انکے سدباب کيلۓ کچھ ٹھوس اقدامات بھی نہيں کيۓ جاتے,اور جوکچھ کام إنٹيرنيشنل دباؤميں کيا جاتا ہے، وہ بہت سطحی ہے - اين، جی،او ز جو اس کام ميں آگےآگے نظرآ تی ہيں انکی توجہ بھی زيادہ ترسرمايہ جمع کرنے تاثربنانے،اپنا اثرورسوخ قایٔم کرنےميں صرف ہوتا ہے
حکومتی سطح پر انسانی حقوق کےإطلاق کا کویٔ نظام نہ ہوے کے برابرہے جس کی وجہ سے غير حکومتی فلاحی ادارے جو بھی کام کرتے ہيں انہيں جانچنے اور پرکھنے کاکویٔ پيمانہ نہيں ہےاورمتعلقہ حکومتی ادارے اپنی لاپرواہی کوچھپانے کيلٔے ان ااروں کے سطحی کام کو بغير کسی خاص معيار اورٹھوس قانونی ڈھانچے کے اطلاق کے توثيق اور حمايت بھی فراہم کرتے ہيں جنکی وجہ سے معذورافراد براہِ راست سماجی بہبود اور معذوروں کی بحالی کے اداروں تک رسایٔ سے محروم رہتےہيں۔بنيادی سہوليات جيسے معذوری سرٹيفيکيٹ، نادرا کارڈ اور خدمت کارڈ جيسے اہم کام بھی ان کے لئےايک  لامتناہی اور اکثر بے ثمر کوشش ثابت ہوتی ہے   
پاکستان بھر ميں جب (سی،پی،اے،ايس،ڈی پاکستان) نے ايک رضاکارانہ سی پی کے واقعات کا اندراج کرنا شروع کيا توان ميں چند بہت   اہم مسائل سامنے آے جو نا صرف سی پی بلکہ بچوں ميں ابتدایئ عمر کی معذوری کیکئی اور بھی وجوہات کا پتہ چلا جو ايک غير  موثرصحت کا نظام  ہونے کی وجہ سے معذوری محتاجی، اور محرومی کی انتہا کاباعث بن جاتی ہيں                     بچوں ميں پيدائش کے فوراً بعد کئ قسم کی ايسی بيماریاں يا حالات پيدا ہوتےہيں جو انکی  بڑھوتی ميں رکاوٹ بچہ يافرد ہی نہيں پورے خاندان کی زندگی کومتاثرکرديتی ہے , بروقت تشخيص اور علاج کی مدا خلت نہ ہونے کی وجہ سے معذور بچے  اور اپنے بنيادی انسانی حقوق  تعليم ،علاج، تفريح اورترقی سےمحروم رہتے ہيں  اوربطور بالغ افراد معاشرے  کے کارآمد شہری کے طور پر اپنا کردار ادانہيں کر پاتے                                                                                                            
                                              
پاکستان ميں پوليو سے بچاؤ کيلۓ سخت اور فوری اقدامات کيۓ گۓ ،پوليوبچوں کو جسمانی معذوری کا شکار کرتا ہےمگر سيريبرل پالسی جيسی بيماری جودنيا بھر ميں سترہ ملين سےزيادہ افرادکو متاثر کرتی ہےاور دنيا بھر ميں بچوں ميں ہونے والی معذوری کا سب سے بڑا سبب سمجھا جاتا ہے-(نہ ہی اس کے بارے کویٔ پاليسی يا حکمت عملی حکوتی سطح پر وضع کی گیٔ ہے يہاں تک کہ سی پی اور بچوں سے متعلقہ صحت کے مسأیٔل ميں سی پی کاوجود تقريباً نابود ہےجو کہ إنسانی حقوق اور معذوروں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے" سيريبرل پالسی" سےبچاؤ،تشخيص اور بحالی کيليۓ ايک واضح حکمتِ عملی جو صحت اور سماجی بہبود کے مشترکہ لأیٌحہ عمل پر مشتمل ہو،کی ضرورت  ہے

       سي پی  کویئ  بخار،نزلہ کھانسی يا مليريا جيسی بيماری نہيں اور نا ہی موت کا سبب بنتی ہے مگر يہ ايک ايسی حالت ہے جو بہت سی بيماريوں معذوری اور پيچيدگیوں کا باعث بنتی ہے                      

Post a Comment