Skip to main content

COVID-19PK: پاکستان کے فلا حی اداروں کی ناکامی اورغیر موجود گی واضح



New Normal with Covid19 !

 کرونا ١٩ سے ساری دنیا ایک الجھن  کا شکار ہے اور اس صورت حال میں جہاں ترقی یافتہ ممالک بھی آنے والے ما لی حالت سے پریشا ن نظر آ رہے ہیں وہاں ہماری  بےضابطہ معیشت کا متاثر ہونا ضروری ٹھہرا ...

 مگر ایسا  لگتا ہے جسے حکومت اپنے آپ کو اس صورت  حال  کے لئے تیار نھیں سمجھتی !




ویسے تو ہماری  عوام کو حکومت کی  تاکید ہے کہ گھبرانا نہیں  پھر بھی
 ہر پاکستانی شہری  پریشان ہو ہی گیا ہے  پہلے سے انتہا ئی مہنگائی کے  شکارعوام کو کچھ امداد اور رعایت دینا حکومت کا فرض ھے  جبکہ حکومت خود عالمی اداروں سے ، امداد اور رعایت دونوں وصول کر رہی ہے ، ان میں سے کچھ امداد تو کرونا سے پیدا شدہ حالا ت سے نمٹنے کے لیے  ہی ہیں ،،، حکومت کی آسانی کے لئے شہری نے کچھ طبقات کا ذکر کیا ہے جو مزدور اوربڑے سرمایہ دار کے درمیان ھماریے معاشرے میں موجود ہیں اور شاید  حکومتی اداروں کی نظر سے اوجھل رہ گے ہوں .. 


ابھی تک جو نظرآرہاہے کچھ یوں  ہےکہ:


ایک دیہاڑی دار کو  ملیں گے تین ہزار ماہانہ : روزمرہ کے  کام کرنے والےراج مزدور جو بنیادی طور  پسا ہوا اور پسماندہ طبقہ ہیں بیشتر غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ، اپنا   نام نہیں لکھ سکتے ، انکا شنآختی کارڈ بن جانا ا ور سںمبھال لینا ایک اہم  بات ہوتی ہے ، اگر اسکے بنا کم مل جا ے تو کبھی نہ بنایں، تین ہزار روپے میں انکا بھی اس  مہنگا ئی میں گزارا ممکن نظر نہیں آتا ہے- 

 غربت کی  لکیر سے ذرا اوپر, انکا  کچھ ذکرہی  نھی :
ہمارے  ملک کی بیشترآبادی   خود اپنا کوئی چھوٹا یا درمیانہ درجے کا  کاروبار کرتے ہیں،اوریا ایسے کسی کاروبار سے منسلک ہیں جو سرکاری، نیم سرکاری یا فوجی نوکری کے زمرے میں نھیں  آتا  ، جنکہ علاج ، تعلیم  وغیرہ کے وہ خود ہی ذمہ دار ہیں، جن  کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوی پنشن یا مراعات  نہیں ملتیں ،جو گارڈز، اساتذہ ، ریسٹورنٹ کے ویٹرز ، ڈیلیوری والے ، کریم ،او بر ڈرائیورز ،  مالز پر کھڑے سیلز کے بیشمار اسٹاف، پارلر اور سیلون کے مالک ،اسٹاف، ہنرمند کاریگر ، درزی ، دھوبی یا   آپکا سبزی گوشت والا ہیں ، یا جو چھوٹے کسان ہیں ان کے بارے میں کون سوچے گا ....


معاشرے میں سب سے غیرمحفوظ , معزور افراد  اور غربت لازم و ملزوم  :


ہمیں اپنی آگہی ور رہنمائی کی مہم میں سیریبرل پآلسی  سے متاثرہ ا ور دیگر بیماریوں سے بھی معذور بچوں کے خاندانوں کی روزمرہ مسایل  سے اکثر واسطہ پڑتا ہے اور ہماری بے انتہا کوشش کے باوجود کہ انکی زندگی کا معیار  کچھ بہتر ہو جاے ور ان بچوں کے والدین کو کچھ اضافے آمدنی ہو مگر ہم جب بھی حکومت کے پیش کردہ  فلاحی منصوبوں  میں  ان کے لئے  درخواست کرتے ہیں ہمیں شدید حیر ت ا ور مایوسی ہوتی ہے  جب نتیجہ ہمیشہ "کبھی  جواب نہ آنا"، اور "آپ اس  سہولت کے اہل نھیں" ہی ہوتا ہے ، جبکہ  جن بنیادی سہولیات کی ہم  معذور افراد کے لئے تلاش کر رہے ہوتے ہیں وہ  ا نکےبنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں ، صحت مند افراد تو کسی نہ کسی طرح سے  کم حقوق کے سآتھ زندگی گزار  ہی لیتے ہیں تاہم جسمانی یا ذہنئی معذوری کی صورت  میں بھی حکومتی نظام غیر فعال نظر آتا ہے جو انسانی حقوق کی شدید ورزی ہے جبکہ پاکستان ایک عالمی کنونشن کا بھی حصہ ہے-  

تجر بہ یہ کہتا ہے کہ, بینظیر انکم سپورٹ ہو ، خدمت کارڈ  ہو یا احساس کارڈ ، انکے ثمرات کبھی مستحق  اور معذورافراد تک نھیں پہنچ پاتے کیونکہ ہمارے ملک  میں اس بارے میں کبھی کچھ ٹھوس کام جو ایک قابل عمل ڈھانچہ تشکیل دیتا ا ور بڑھتے ہوے آبادی کے تقاضوں کو پورا کرسکتا , ہوا ہی نھیں ہمارے اپنے نہ  اعداد و شمارہیں , نہ کبھی غر یب ا ورغر بت پر کوئی جا مع تحققیق کی گئی ،  پچیس فیصد کی سطح غربت سے نیچے ہونے کا اندازہ بھی بیرونی اداروں کا ہے اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ  گھمبیر ہے-    
 ہمارے  پاس  اگر ستر نھیں تو پینتیس سال پرانا  ہی کوئی" ویلفیئر" فلاحی نظام کاغذ اور اعلانات سے آگے جاتا بد عنوانی  کے  بھنور میں گم نہ ہو جاتا تو آج متعلقہ  اداروں سے فہرست لیکر فورا جا ن جاتے کونسا طبقہ کتنی مرا عات کا مستحق  ہے، مگر لوکل گور نمنٹ تقریبا" ناکارہ ، ا ور فلا حی ادارے بیرونی امداد کے پیش نظر قائم  ہوں, جو کیک ، گلدستے اور فوٹو شوٹ تک محدود ہوں تو ان سے بحرانی حالا ت میں انسانی ہمدردی پر  مبنی حل کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ؟؟

فلاحی ریاست میں فلاح کون کریگا ؟
ایک FBR کا ادارہ ہے جو پچھلے سال سے پاکستانی قوم سے ٹیکس جمع کرنے پرمصر ہے اور ہے اس میں کامیابی کا دعوا بھی کر چکا اس صورت میں حکومت کوفوراً "عوام کا ٹیکس عوام کے لئے" کے مصداق اس ادارے کو کام میں لانا  ہوگا جو ٹیکس لگانے کا اصل ،مقصد بھی ہے، سا رے ترقی یافتہ ممالک اسی طرح ٹیکس امیر افراد سے لیکر کم آمدنی والے افراد میں دیتے ہے، تو پھر ہمارے اس ادا رے کے پاس تو  امیر لوگوں کےشناختی کارڈ سے انکے بنکوں تک پہنچنے کا اختیار بھی ہے , بس اس بار انھیں ان لوگوں کو تلاش کرنا ہے جو بینک اکاؤنٹ نھیں رکھتے یا انکا اکاؤنٹ خالی ہے !

Comments

Popular posts from this blog

Best Rehabilitative Work in Pakistan : Paraplegic Center Peshawar

پیراپلیجیک سنٹر کے متعلق اب تک کی سب سے بہترین ڈاکومینٹری۔

دیکھئیے اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں




Paraplegic Center Peshawar  "PCP” is an autonomous body working under the umbrella of the department of Health, Govt of KP, providing free of cost, “Comprehensive Physical Rehabilitation Services” to people with spinal cord injuries from KP, FATA & the rest of the country.

INTRODUCTION "Paraplegic centre Peshawar, is an autonomous body working under the umbrella of the department of health, Govt of Khyber Pakhtunkhwa, providing free of cost, “Comprehensive Physical Rehabilitation Services” including, Skilled Physiotherapy, Occupational Therapy, Orthotic Management, Psychological Counseling, Recreational Activities, Skills Building, Community Re-Integration, provision of Custom Made WheelChairs, Adoptive/ Supportive equipments and Follow Up Services including minor home modifications along with Medical and Nursing care of people with Post Traumatic Spinal Cord Injuries from K…

Waqas Ahmed Chairman Pace2Life Welfare Foundation in Kasur : Speech on World Disability Day

Waqas Ahmed Chairman  Pace2Life Welfare Foundation: Speech on International Day of PWD at Kasur


قصور میں آج کا دن اسپیشل بچوں کے نام کردیا گیا ۔ ضلع کونسل میں منعقد کی گئی تقریب میں سپیشل بچوں نے ہاتھوں کے اشاروں سے قومی ترانہ اور ٹیبلوز پیش کرکے شرکا سے خوب داد وصول کی اسی پر ملک عارف علی کی رپورٹ دیکھتے ہیں ۔۔۔۔

* Program organized by Abdul Qudoos exective member Pace2life with the colaboration of Govt. Special Education institutes of kasur.

*Welcome tablo presented by govt. Special school for Hearing Impaired kasur

*Tabloo on special achiever of special community presented by govt school for slowlearner kasur

*National anthom presented by special students of all four disabilities especially deaf students in sign language

*Tabloo on Wheels on the bus presented by the students of Govt special education center kasur

*Tabloo on healthy food presented by Govt. Special school for HI Kasur

This World CP Day 2017 StepUp Pakistan Going National to International !